اسلام آباد: مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دنیا کے کسی دستور میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 26 ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ 2028ء سے ملک سے سود کا خاتمہ کر دیا جائے گا اب یہ سوچی سمجھی کوشش کی جارہی اس پر عمل نہ ہو، وزارت قانون نے یہ تجویز دی ہے کہ جس بینک میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہوگی انہیں سود کے خاتمے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، اب ایسی کوشش ہورہی ہے کہ کئی بڑے بینک ملکی بین غیر ملکیوں کے شئیر شامل کئے جا رہے ہیں، علماء کے اس اجتماع کو سود کو برقرار رکھنے کی اس کوشش پر لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ یہ بات انہو ں نے مجلس اتحاد امت پاکستان کے تحت مشاورتی علمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم میں صدر اور فوج کے اعزازی عہدے پر فائز فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دیا گیا ہے جس کی کوئی نظیر دنیا کے کسی دستور میں نہیں ہے، ہمیں 27 ویں ترمیم کے اس نکتے پر شدید اعتراض ہے کیوں کہ تاحیات استثنیٰ دینا اسلام اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے دوران مطالبے کیے کہ 27 ویں ترمیم کے تحت مقررہ وقت میں سود کو ختم کیا جائے، ٹرانس جینڈر قانون کو ختم کیا جائے، افغانستان سے کشیدگی مذاکرات اور افہام وتفہیم کے ذریعے ختم کی جائے۔
