English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ کی کوئی مثال نہیں، مفتی تقی عثمانی

القمر

کراچی: مجلس اتحاد امت پاکستان کے تحت منعقدہ مشاورتی علمی اجتماع میں ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے ملک میں حالیہ آئینی اور مذہبی امور پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دینے کی کوئی مثال دنیا کے کسی بھی آئین میں موجود نہیں اور یہ تجویز نہ آئینی طور پر درست ہے اور نہ اسلامی اصولوں کے مطابق۔

انہوں نے کہا کہ 18 سال سے کم عمری کی شادی پر سزا کو بھی اسلام کے خلاف قرار دیا جبکہ ساتھ ہی واضح کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی امریکی کوششوں میں پاکستان کی شمولیت کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی اور اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔

اجتماع میں مفتی منیب الرحمن، مولانا فضل الرحمن سمیت مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے شرکت کی،  اس موقع پر قاری حنیف جالندھری نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور مجلس اتحاد امت کے قیام کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد امت کے تمام طبقات کو معاشرتی، مذہبی اور نظریاتی مسائل پر یکساں مؤقف کے لیے متحد کرنا ہے تاکہ قومی سطح پر قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے آئینی راستہ ہی واحد اور درست طریقہ ہے،  اس تناظر میں علما کو ایک متفقہ اور واضح پالیسی ترتیب دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس کے قوانین برسوں سے تعطل کا شکار ہیں جبکہ اس معاملے میں اتفاقِ رائے کی صورت ہمیشہ مثبت نتائج سامنے آئے، جس کی مثال 1973 کا متفقہ آئین ہے جس نے اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا اور واضح کیا کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے وفاقی شرعی عدالت میں تقرری کے حوالے سے کہا کہ آئین کی رو سے تین علمائے کرام کا تقرر ضروری ہے، اس لیے حکومت اس تقاضے کو پورا کرے۔

سود کے خاتمے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 26ویں ترمیم میں 2028 تک سود کا خاتمہ یقینی بنانے کا ہدف مقرر ہے لیکن حالیہ تجاویز میں غیر ملکی سرمایہ رکھنے والے بینکوں کو اس پابندی سے استثنیٰ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے بینک غیر ملکی شیئرز کے ذریعے سودی نظام کو برقرار رکھنے کا راستہ نکال سکتے ہیں،  انہوں نے اس اجتماعی پلیٹ فارم سے سود کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

آخر میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ علما کی ذمہ داری ہے کہ آئینی و دینی معاملات پر مشترکہ آواز بلند کریں تاکہ قوم کے مذہبی و نظریاتی تقاضوں کے مطابق پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے