English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مولانا مودودی کی فکر آج بھی زندہ ہے، منظم سیاسی جدوجہد ناگزیر ہے، حافظ نعیم

القمر

کراچی:جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے جہاد کے تصور کو علمی بنیادوں پر سمجھانے کے ساتھ ایک منظم، تربیت یافتہ اور نظریاتی جماعت کی بنیاد رکھ کر تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا، جس کی مثال برصغیر کی سیاسی و مذہبی تاریخ میں کم ملتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن  نے کہا کہ صرف فکر یا نظریہ کافی نہیں ہوتا بلکہ جماعت کی عملی قوت اور تنظیم بھی اتنی ہی ناگزیر ہوتی ہے، کیونکہ نظریہ اُس وقت ہی اثر رکھتا ہے جب وہ نظم، جدوجہد اور عوامی نمائندگی کے ساتھ جڑا ہو۔

کراچی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اکثر ایسے کارکن اور رہنما موجود ہوتے ہیں جنہوں نے دہائیوں تک جدوجہد کی، مگر انہیں اُن کا حقیقی مقام نہیں ملتا۔

 انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سیاست میں یہی رویہ بارہا سامنے آیا ہے کہ مشکل وقت میں انہی کارکنوں کی قدر کی جاتی ہے جنہیں عام حالات میں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جماعتوں کے اندر میرٹ کو نظرانداز کرکے پسند و ناپسند کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت اور موجودہ سیاسی رویوں پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر جمہوری اقدامات کے حوالے سے پنجاب حکومت کا ریکارڈ موجود ہے،  الیکشن نتائج کے حوالے سے فارم 45 اور فارم 47 کی مثال اس بات کی عکاس ہے کہ انتخابی نظام اب بھی شفافیت کے چیلنجز سے دوچار ہے، بڑے ہوں یا چھوٹے سب ہی فارم 47 والے ہیں  جو انتخابی اصلاحات کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے تعلیم کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو دانستہ طور پر تباہ کیا گیا اور بعد ازاں انہیں آؤٹ سورس کر دیا گیا جو ایک ناکام حکمت عملی ثابت ہوئی،  تعلیم کو بازار کی منڈی بنا دینے سے مستقبل کے معمار متاثر ہوتے ہیں اور ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔

انہوں نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی جدوجہد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات، مقدمات اور پھانسیوں کے باوجود وہاں جماعت نے صبر، استقامت اور جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور یہی راستہ پاکستان میں بھی اپنانا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مولانا مودودی کی فکر نہ صرف جماعت اسلامی کے لیے، بلکہ امت مسلمہ کے لیے باوقار سیاسی مزاحمت، مثبت تبدیلی اور معاشرتی اصلاح کا رہنما اصول ہے اور موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی حالات میں منظم جدوجہد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے