English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سنجیدہ ڈائیلاگ کیلیے حکومت تیار، بلیک میلنگ سے بات آگے نہیں بڑھ سکتی، وزیراعظم

القمر

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ حکومت پاکستان سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل کے لیے سنجیدہ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم کسی بھی جماعت کے غیر قانونی مطالبات اور دباؤ یا بلیک میلنگ کے طریقۂ کار کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف خلوصِ نیت اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا چاہتی ہے تو حکومت بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر ڈائیلاگ صرف آئین، قانون اور جائز نکات کی بنیاد پر ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کی جانب سے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے، جسے حکومت غور سے دیکھ رہی ہے، تاہم وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے اور وہ خود قومی اسمبلی کے فورم پر متعدد بار اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ اگر اپوزیشن سنجیدہ مذاکرات چاہتی ہے تو حکومت اس کے لیے آمادہ ہے۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی مطالبات، دباؤ ڈالنے کی کوششوں اور ریاستی اداروں کو بلیک میل کرنے جیسے رویوں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن ان اختلافات کو حل کرنے کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات جن کا تعلق عوامی فلاح، پارلیمانی روایات اور جمہوری نظام کی مضبوطی سے ہو، ان پر بات چیت کی جا سکتی ہے، مگر ذاتی مفادات یا قانون سے بالاتر مطالبات کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد مسائل کا حل اور نظام کو آگے لے جانا ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دباؤ کی سیاست۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی، سفارتی اور سیکورٹی کے اہم چیلنجز سے گزر رہا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی اور سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ سیاسی عدم استحکام کا براہِ راست نقصان عوام اور معیشت کو پہنچتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام قوتیں ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے حکومت کی مجموعی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کا ہدف ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر ڈالنا، عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ریاستی اداروں کو آئین کے مطابق مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے اگر اپوزیشن تعمیری کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو حکومت اس کا خیرمقدم کرے گی، تاہم انہوں نے یہ بھی دوٹوک انداز میں کہا کہ قانون کی عملداری اور ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اب سیاست میں سنجیدگی، برداشت اور مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام سیاسی جماعتیں ذمے داری کا مظاہرہ کریں گی اور قومی مفاد میں ایسے فیصلے کریں گی جو ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے