اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے 2010 میں پیش آنے والے ایئر بلیو کے المناک طیارہ حادثے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں نجی ایئر لائن ایئر بلیو کو متاثرہ خاندانوں کو مجموعی طور پر 5 ارب 41 کروڑ 78 ہزار روپے سے زائد کی رقم بطور ہرجانہ ادا کرنے کا پابند قرار دیا ہے۔ عدالت نے اس کیس میں ایئر بلیو کی جانب سے دائر کی گئی تمام 8 اپیلیں مسترد کرتے ہوئے متاثرین کے حق میں واضح فیصلہ سنا دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈاکٹر رسول بخش میرجت نے اس حوالے سے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ یہ معاملہ ایک سول دعوے کے تحت زیرِ سماعت تھا اور طیارہ حادثے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے لیے معاوضے کا تعین شواہد اور قانونی نکات کی بنیاد پر کیا گیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں متاثرین کی 8 اپیلوں پر بھی غور کیا اور ایئر بلیو کی جانب سے دائر تمام اپیلیں خارج کر دیں۔
تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے ایئر بلیو پر فی اپیل ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جس کے تحت مجموعی طور پر 80 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بار بار درخواستیں دائر کرنے اور عدالتی وقت کے غیر ضروری ضیاع پر جرمانہ عائد کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔
عدالت نے متاثرین کے لیے الگ الگ ہرجانے کی رقوم کا بھی تعین کیا۔ فیصلے کے مطابق متاثرہ سمیرا نوید چوہدری اور 2 دیگر افراد کو مجموعی طور پر 143.189 ملین روپے ادا کیے جائیں گے جب کہ راشد ذوالفقار اور 4 دیگر متاثرین کو 630.94 ملین روپے فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح محمد الیاس کو 1101.868 ملین روپے بطور ہرجانہ ادا کیے جائیں گے۔
دیگر متاثرین میں گوہر رحمان کو 507.348 ملین، جنید الزماں حامد کو 996.048 ملین، محمد جاوید خان کو 857.025 ملین، سلیمہ راجپوت کو 572.666 ملین اور کرنل (ر) شمیم اختر کو 606 ملین روپے ہرجانے کی رقم ادا کرنے کا عدالتی حکم دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس کیس میں متاثرین نے سول جج کے پہلے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی، کیونکہ سول جج نے اپنے فیصلے میں فی کس معاوضے کی حد ایک کروڑ روپے تک مقرر کی تھی، جسے متاثرین نے ناکافی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں یہ اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیرِ سماعت رہیں، تاہم ہائیکورٹ نے دائرہ اختیار کے باعث کیس دوبارہ سیشن کورٹس کو منتقل کر دیا تھا۔
