اسلام آباد: ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے فائیو جی ٹیکنالوجی کے نفاذ کی جانب عملی قدم اٹھاتے ہوئے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری دے دی ہے۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس حوالے سے باضابطہ منظوری دیتے ہوئے ملک میں جدید ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے قیام کی راہ ہموار کر دی ہے، جسے حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی کوششوں میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ای سی سی کے اجلاس میں فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے تمام پہلوؤں پر غور کے بعد اس کی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان پروگرام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس پروگرام کو عملی شکل دینے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فائیو جی نیلامی اس سمت میں ایک فیصلہ کن قدم ہے۔
وزیر خزانہ نے اس موقع پر واضح کیا کہ فائیو جی اسپیکٹرم نہ صرف ٹیلی کام سیکٹر بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ مالیاتی شمولیت، ڈیجیٹل خدمات کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی تک عوامی رسائی میں اسپیکٹرم کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اسپیکٹرم کی بروقت نیلامی نہیں ہو پاتی، وہ درحقیقت قومی خزانے کے لیے مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں، اس لیے حکومت نے اس معاملے کو مزید مؤخر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اسپیکٹرم نیلامی کے حوالے سے ایک شفاف اور عالمی معیار کے مطابق عمل اپنانے کے لیے اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی نے بین الاقوامی سطح کی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس، المعروف نیرا، کی خدمات حاصل کیں۔ نیرا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی نگرانی میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی اور ماضی میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں ہونے والی اسپیکٹرم نیلامیوں کا جامع تجزیہ کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مشاورتی عمل کے دوران اسپیکٹرم کی قیمتوں، ادائیگی کی شرائط اور نیلامی کے ڈیزائن سمیت تمام اہم تکنیکی اور مالی پہلوؤں کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق پرکھا گیا۔ نیرا کی جانب سے دی جانے والی سفارشات کو پاکستان کے معاشی حالات اور ٹیلی کام مارکیٹ کی ضروریات کے تناظر میں جانچا گیا، تاکہ ایسا فریم ورک تشکیل دیا جا سکے جو ایک جانب سرمایہ کاری کو راغب کرے اور دوسری جانب قومی مفاد کا تحفظ بھی یقینی بنائے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق ان سفارشات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد انہیں ای سی سی کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں کمیٹی نے آج کے اجلاس میں فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے تجویز کردہ فریم ورک کی منظوری دے دی۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کو ڈیجیٹل ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل کرنے کی بنیاد فراہم کرے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کاروبار، تعلیم، صحت اور گورننس کے شعبوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
