اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے شرمیلا فاروقی کی جانب سے پیش کیے گئے جہیز پر پابندی کے بل کو متفقہ طور پر ناقابلِ عمل قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ اجلاس خرم نواز کی سربراہی میں ہوا، جس میں بل کی شقوں پر تفصیلی بحث ہوئی۔
شرمیلا فاروقی کے پیش کردہ بل میں جہیز کو غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزاؤں کا نفاذ تجویز کیا گیا تھا، بل میں والدین کو اپنے بچوں کو رضاکارانہ تحائف دینے کی اجازت دینے کی شق بھی شامل تھی تاکہ ثقافتی رسوم اور محبت کے اظہار پر پابندی نہ لگے۔
کمیٹی کے اراکین نے بحث کے دوران کہا کہ جہیز کے خلاف قوانین پہلے بھی موجود ہیں، اس بل کی کچھ شقیں عملی مشکلات اور معاشرتی رویوں کے تناظر میں قابل عمل نہیں ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی زور دیا گیا کہ معاشرتی رویے تبدیل کرنے کے لیے تعلیم اور شعور اجاگر کرنا زیادہ مؤثر ذریعہ ہے۔
آخرکار کمیٹی نے بل کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر عملی قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جہیز کے خاتمے کے لیے قانون سازی کے بجائے سماجی شعور اور آگاہی کی کوششیں زیادہ کارگر ہوں گی۔
