English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

انقرہ سے طرابلس جانے والا طیارہ حادثے کا شکار، لیبیا کے فوجی سربراہ ہلاک

القمر

انقرہ: ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے لیے روانہ ہونے والا طیارہ اڑان بھرنے کے چند ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار لیبیا کے فوجی سربراہ سمیت متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں ایک المناک فضائی حادثے کے نتیجے میں لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی الحداد سمیت طیارے میں سوار تمام افراد جان کی بازی ہار گئے، حادثہ اس وقت پیش آیا جب انقرہ سے طرابلس کے لیے روانہ ہونے والا طیارہ اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق طیارے نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے لیے پرواز بھری، تاہم دورانِ پرواز اچانک فنی نقص سامنے آیا۔ اڑان کے تقریباً 30 منٹ بعد طیارے کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد پائلٹ نے طیارے کو واپس انقرہ کی جانب موڑنے کی کوشش کی، مگر لینڈنگ سے قبل ہی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔

حادثے کے وقت طیارے میں لیبیا کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد علی الحداد سمیت مجموعی طور پر پانچ افراد سوار تھے۔ لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ نے فوجی سربراہ کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنرل محمد علی الحداد آج ہی ترکیہ کے دورے پر انقرہ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ترک وزیرِ دفاع سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ ہونے والے طیارے کو یہ المناک حادثہ پیش آیا، جس نے دونوں ممالک میں سوگ کی فضا قائم کر دی ہے۔

واقعے کے بعد ترکیہ کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا، جبکہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں اور سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ترک وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ طیارہ شام 8 بج کر 10 منٹ پر روانہ ہوا تھا، جبکہ 8 بج کر 52 منٹ پر ایئر ٹریفک کنٹرول سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ ان کے مطابق حیمانہ کے قریب ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع موصول ہوئی تھی، تاہم اس کے بعد طیارے سے دوبارہ کوئی رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ حادثے نے خطے میں فضائی سلامتی سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے