بھارتی ریاست آسام میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق آسام کے ضلع کاربی آنگ لانگ میں قبائلی زمینوں پر مبینہ تجاوزات کے خلاف شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے متعدد دکانوں اور ایک بی جے پی رہنما کے گھر کو آگ لگا دی جبکہ پولیس پر شدید پتھراؤ بھی کیا گیا۔
صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ جھڑپوں کے دوران 40 پولیس اہلکاروں سمیت 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے متاثرہ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔ آسام کے وزیراعلیٰ نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین اپنی آبائی زمینوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
