کیف/واشنگٹن: یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں میں روس کی جانب سے شدید فضائی حملے کیے گئے، جو یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے امریکہ کے دورہ سے قبل انجام دیے گئے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق روسی فوج نے چالیس میزائل اور پانچ سو سے زائد ڈرون داغے، جن کے نتیجے میں شہری علاقے شدید متاثر ہوئے اور متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
رہائشیوں کے مطابق کیف میں ایک رہائشی کمپلیکس ڈرون حملے کی زد میں آیا، جس کی ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی ٹیمیں تیزی سے کارروائیوں میں مصروف ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ شہری ڈھانچوں کے قریب نہ جائیں اور محفوظ مقامات پر رہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
روسی حملوں کے اثرات صرف یوکرین تک محدود نہیں رہے، بلکہ پڑوسی ملک پولینڈ میں بھی دو ایئرپورٹس پر پروازیں وقتی طور پر معطل کر دی گئی تھیں، جس سے فضائی آمد و رفت متاثر ہوئی۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق یہ حملے روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اور سنگین موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔
صدر زیلنسکی کے دورہ امریکہ سے قبل یہ حملے عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنے ہیں، جہاں مغربی ممالک کی توجہ یوکرین میں انسانی و سیکیورٹی بحران پر مرکوز ہے، اور بین الاقوامی برادری کو فوری طور پر مذاکراتی راستے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
