اسلام آباد: ملک میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکیل ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کو طلب کرنے کےلیے درخواست دائر کردی گئی جس پر جج نے نوٹس جاری کردیا۔
اطلاعات کے مطابق جج افضل مجوکہ کی عدالت نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کرنے کے حوالے سے استغاثہ کو نوٹس جاری کیا ہے کیوں کہ اس سلسلے میں فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری پر عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کیخلاف جج افضل مجوکہ کی عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے موقف اپنایا ہے کہ ’ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے میرا نام لے کر مجھے غداروں کا وکیل اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا، جو میرے خلاف مقدمے پر اثر انداز ہونے کی سنگین کوشش ہے۔
اس پر جج افضل مجوکہ نے کہا کہ میں نے وہ پریس کانفرنس نہیں دیکھی، بعد ازاں عدالت نے درخواست پر استغاثہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک کاپی استغاثہ کی ٹیم کے حوالے کردی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس میںڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو یہاں موجود کچھ باریک وارداتییے ان کی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں۔
ان میں سے ایک ناروے میں بیٹھا ہے، یہ (ایمان مزاری) خود کو ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ کہتی ہیں، ایک پروفیسر عثمان قاضی کی دہشتگردی پر سوشل میڈیا پر بیانیہ بنایا، ان سب کی ڈوریاں باہر سے چل رہی ہیں۔
