English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا تین روزہ دورہ لاہور، کھاریاں میں حملہ اور پولیس کا کریک ڈاؤن

القمر

اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں تین روزہ دورے پر اسلام آباد سے لاہور روانہ ہونے والے قافلے کو مختلف شہروں میں استقبال کا سامنا ہے، تحریک کا قافلہ جی ٹی روڈ کے راستے لاہور پہنچے گا، جہاں کارکنوں اور حامیوں کی جانب سے بڑے استقبال کی توقع ہے، اس دوران تحریک کی سرگرمیاں آئین کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے لیے عوامی رابطہ مہم کا حصہ ہیں۔

دوران سفر، قافلے کو کھاریاں کے مقام پر ایک ناخوشگوار واقعہ کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی پر نقاب پوش حملہ آوروں نے حملہ کرتے ہوئے گاڑی کے شیشے توڑ دیے اور گرفتاری کی کوشش کی، اس کے بعد تحریک کے قافلے کو جہلم کے قریب روک لیا گیا، جہاں پی ٹی آئی کے رہنماؤں امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور تھانہ سٹی جہلم منتقل کر دیا۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک نے اسلام آباد سے لاہور تک پرامن سفر شروع کیا تھا، لیکن پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن ارکان کی گاڑیوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور انہیں نقصان پہنچایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کا مقصد کیا ہے؟ کیا وہ پنجاب اسمبلی کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں؟

تحریک کے مطابق اس دورے کا مقصد عوامی سطح پر آئین کی بالادستی اور اسٹریٹ موبلائزیشن کے ذریعے جمہوری حقوق کی جنگ لڑنا ہے۔ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں روانہ ہونے والے قافلے میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں جیسے علامہ راجہ ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر، اسد قیصر اور معین ریاض قریشی سمیت دیگر اپوزیشن ارکان بھی شامل ہیں۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق قافلے کا پہلا بڑا استقبال جہلم میں کیا جائے گا، اور مختلف شہروں سے ہوتا ہوا یہ قافلہ لاہور پہنچے گا، جہاں سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں متوقع ہیں، اور زمان پارک میں ملاقاتوں کا شیڈول بھی رکھا گیا ہے۔

قافلے کی روانگی سے قبل، محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریک نہ کسی کو فتح کرنے اور نہ گالیاں دینے کے لیے ہے، بلکہ یہ آئین بچانے اور ظلم کے خاتمے کے لیے نکالی گئی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین کی حکمرانی اور امن کے لیے اس تحریک کا ساتھ دیں۔

فوجی ترجمان پنجاب بریگیڈیئر (ر) مشتاق نے کہا کہ تحریک کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور تحریک کے کارکنوں کے خلاف مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن جاری ہے، جس میں گوجر خان میں کارکنوں پر پولیس کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے اس دورے کو عوامی رابطہ مہم کا ایک اہم حصہ قرار دیا ہے، جس کے ذریعے آئین کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے