English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بیرون ملک روزگار کا بڑھتا رجحان: ایک سال میں 7 لاکھ 62 ہزار افراد پاکستان سے گئے

القمر

پاکستان سے بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے افراد کی تعداد میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بیورو آف امیگریشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانی روزگار کے مواقع کی تلاش میں بیرون ملک گئے، جن میں بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت یافتہ افراد کی بھی شامل ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں میں 18 ہزار سے زائد ایسے افراد شامل تھے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ یا خصوصی تربیت رکھتے تھے، جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، منیجرز، نرسز اور کمپیوٹر اینالسٹ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے مقابلے میں 2025 میں تقریباً 35 ہزار زیادہ پاکستانی بیرون ملک گئے، جو ملک میں معاشی دباؤ اور روزگار کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑی منزل ثابت ہوا، جہاں گزشتہ سال 5 لاکھ 30 ہزار سے زائد پاکستانی ملازمت کے لیے گئے۔ سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے ورک ویزوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 78 ہزار زیادہ تھی۔

اس کے بعد متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عمان اور کویت پاکستانی ورک فورس کے اہم مراکز رہے۔

دیگر ممالک میں بھی پاکستانیوں کی موجودگی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جن میں ملائیشیا، چین، عراق، برطانیہ، ترکیہ اور امریکا شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 54 سے زائد ممالک میں پاکستانی شہری ملازمت کے لیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی افرادی قوت عالمی منڈی میں مسلسل جگہ بنا رہی ہے۔

تعلیم اور مہارت کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو بیرون ملک جانے والوں میں ہزاروں ڈاکٹرز، انجینئرز، اکاؤنٹنٹس، نرسز، اساتذہ اور آئی ٹی ماہرین شامل تھے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں مزدور، ڈرائیور، سپروائزر اور آپریٹر بھی بیرون ملک روانہ ہوئے، جو تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور سروس سیکٹر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ افراد پنجاب اور خیبرپختونخوا سے بیرون ملک گئے جب کہ سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر، قبائلی علاقوں اور دیگر خطوں سے بھی ہزاروں افراد نے روزگار کے لیے ملک چھوڑا۔

ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگرچہ ترسیلاتِ زر کے لحاظ سے یہ رجحان معیشت کے لیے فائدہ مند ہے، تاہم بڑی تعداد میں ہنر مند افراد کا ملک سے باہر جانا ایک اہم چیلنج بھی بن چکا ہے، جس پر مستقبل میں سنجیدہ پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے