انجمن تاجران سندھ کے صدر جاوید قریشی نے کہا ہے کہ گل پلازہ کے واقعے میں حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی اور متاثرہ افراد کو بروقت ریسکیو نہیں کیا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی اور جانی نقصان تاجروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ الزامات بھی انہی پر عائد کیے جا رہے ہیں۔
جاوید قریشی نے کہا کہ حکومت کی نااہلی واضح ہے کیونکہ 34 گھنٹے گزرنے کے باوجود ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ناکامی کا کھل کر اعتراف کرے۔
انہوں نے بتایا کہ دیکھ بھال کی مد میں وصول کی جانے والی رقم چوکیداری نظام، مینٹیننس اور جنریٹر کے ڈیزل پر خرچ کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں گل پلازہ کے بیسمنٹ میں پارکنگ تھی تاہم بعد میں وہاں دکانیں قائم کی گئیں، جبکہ اجازت صرف بیسمنٹ، گراؤنڈ اور پہلی منزل تک تھی جس میں وقت کے ساتھ توسیع ہوتی رہی۔
صدر انجمن تاجران سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ گل پلازہ میں کی جانے والی تمام توسیع قانونی طریقہ کار کے تحت کی گئی تھی۔
