ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور وفاقی حکومت کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہیں۔
قومی اسمبلی میں حطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ہے، ایم کیو ایم صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، مگر شرط یہ ہے کہ عملی اقدامات بھی نظر آئیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ گل پلازہ میں لگی آگ تیسرے درجے کی تھی، مگر اس کے باوجود شہری انتظامیہ بروقت اور مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ واقعے کے بائیس گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے جبکہ جماعت اسلامی کا نمائندہ بھی بیس گھنٹے بعد آیا، اس کے برعکس گورنر سندھ کامران ٹیسوری پوری رات متاثرہ مقام پر موجود رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر کو اضافی پانی کی فراہمی کے لیے 26 کروڑ گیلن یومیہ کے منصوبے پر جلد پیش رفت کی جا رہی ہے، تاہم انتظامی غفلت نے گل پلازہ جیسے المناک حادثے کو جنم دیا۔
فاروق ستار نے فائرفائٹر فرقان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بہادر اہلکار نے آگ پر قابو پانے کی کوشش میں اپنی جان قربان کر دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وسائل کی کمی اور ناقص انتظامات کس طرح انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے انکشاف کیا کہ سانحے کے بعد بھی متعدد افراد لاپتہ ہیں اور کراچی جیسے چار کروڑ آبادی والے شہر کے لیے فائر بریگیڈ کا نظام نہایت ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری خود کراچی کی آبادی چار کروڑ قرار دے چکے ہیں، مگر سرکاری اعداد و شمار میں اسے محض دو کروڑ ظاہر کیا جاتا ہے، پورے شہر میں صرف سو فائر بریگیڈ گاڑیاں ہیں، جن میں سے تقریباً نصف ناکارہ ہو چکی ہیں، جبکہ شہر بھر کے لیے محض پچیس فائر اسٹیشن موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پارکس اور باغات تیزی سے ختم کیے جا رہے ہیں جبکہ پچاس فیصد سے زائد تجارتی مراکز ایسے ہیں جہاں فائر بریگیڈ یا ایمرجنسی سے نمٹنے کے بنیادی آلات تک موجود نہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ آگ سے نمٹنے کے لیے چین سے جدید اینٹی فائر غبارے منگوائے جائیں اور شہر کے انفراسٹرکچر کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے۔
فاروق ستار نے ایوان سے اپیل کی کہ کراچی کے مسائل کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے اجتماعی ذمہ داری کے طور پر حل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آئیے مل کر کراچی کو ظہران ممدانی کے نیویارک یا صادق خان کے لندن کی طرز پر ایک جدید اور محفوظ شہر بنائیں اور آئین کے آرٹیکل 140 اے کو اٹھائیسویں ترمیم کا حصہ بنا کر مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا ہے۔
