اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ کوئی ڈیڈلاک شاک نہیں ہے، یہ قوم ہمیں مسئلوں سے نکالے گی، اگر ہم نے اب سر جھکا دیا تو ہمیشہ ایسا ہوتا رہے گا، یہ قوم ہمیں فتح دلائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی بات ہم نے آج کرنی ہے اور آج کے نوجوان کو جواب آج ہم نے دینا ہے، آگے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مانا جائے آج کا نظام غلط ہے۔
اگر یہ کہتے ہیں 2018ءکے انتخابات پر بات ہو گی تو 1990ءمیں کیا ہوا تھا، میں نے تو اصغر خان کیس لڑا ہوا ہے، اس لیے نہ ہم 8 فروری 2024ءکو بھولیں گے اور نہ ہی ہم مٹی ڈالنے دیں گے، انہیں ہر صورت مداوا کرنا ہوگا۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ہم کوئی پر تشدد جتھہ نہیں ہیں، ہم حملہ آور نہیں ہیں، تحریکیں ایسے ہی آگے بڑھتی ہیں، ہم کوشش جاری رکھیں گے۔
انہوں نے 1951ءپھر 1954ءکے انتخابات میں بے مثال دھاندلی کرکے اس جرم کا آغاز کیا تھا، اگر تب کہا ہوتا کہ ہم مٹی نہیں ڈالیں گے تو 8 فروری کو ایسا نہ ہوتا۔
تاریخ گواہ ہے جب کوئی قوم شرافت کے ساتھ حق پر کھڑی ہو جائے تو کوئی ظالم جابر سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست بدمست ہے، اندھی، گونگی، بہری ہوگئی ہے، اس کے ہاتھ میں صرف تلوار ہے وہ ہر ایک کو اڑا دینا چاہتی ہے، عمران خان پر ایکس اکائونٹ کے حوالے سے مقدمہ کیا گیا لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ مقدمہ کریں اور دفاع کا موقع نہ دیں۔
4 نومبر کو جج ارباب طاہر نے حکم دیا کہ وکلاءکی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے لیکن آج تک ہماری عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی اور ہم مشاورت نہیں کر سکے۔
سماعت میں جیل انتظامیہ نے کہا ان کی ضرور عمران خان سے مشاورت ہوگئی ہوگی کیونکہ یہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ملے تھے۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ ہماری تو توشہ خانہ کیس میں آخری ملاقات 16 اکتوبر کو ہوئی تھی جبکہ ایکس کیس بعد میں بنایا گیا اسی لیے 4 نومبر کو جج کو ملاقات کروانے کا حکم دینا پڑا لیکن عمران خان سے ملاقات کیلیے ہائیکورٹ کا ایک اور حکم حکومت نے پھاڑ کر پھینک دیا ہے اور کہا ہے کہ ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں ہے، آج پھر جج نے جیل حکام کو کہا ہے ’دیکھ لیجئے گا‘ اب پتہ نہیں اس کا مطلب کیا ہے بہر حال ہم دوبارہ ملاقات کی کوشش کریں گے۔
