English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دو دن کی مزید حفاظتی ضمانت

القمر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقدامِ قتل، دہشت گردی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت درج مقدمہ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دو دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے دونوں درخواست گزاروں کو 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ دو دن کے اندر متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کے دوران تھانہ کوہسار میں درج مقدمہ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکرٹری اور وکلا کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی، جبکہ درخواست گزاروں کی جانب سے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی خاتون نے رات احاطہ عدالت میں گزاری، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ صورتحال ان کی وجہ سے بنی کیونکہ انہوں نے ہی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالت آنے کا کہا تھا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جب عدالت سے ضمانت مل گئی تو ایک نئی ایف آئی آر سامنے لا کر گرفتاری کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ستائیس جولائی کے واقعے پر درج پرانی ایف آئی آر موجود ہے، جس کے بعد ایمان مزاری درجنوں مرتبہ عدالتوں میں پیش ہو چکی ہیں۔ اگر انہیں گرفتار کرنا مقصود ہوتا تو پراسیکیوشن پہلے ہی ایسا کر لیتی۔

 وکیل کے مطابق اس عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد پولیس ایک پرانے کیس میں گرفتاری کے لیے آ گئی، جس کا پہلے علم ہی نہیں تھا، ایف آئی آر میں فائرنگ کا ذکر ہے، حالانکہ وکیل نے پستول کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔

سماعت کے دوران جسٹس محمد اعظم خان نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار حفاظتی ضمانت مانگ رہے ہیں؟ اس پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ نہ صرف اس مقدمے میں بلکہ اس مقدمے میں بھی پروٹیکشن دی جائے جس کا انہیں علم نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ فی الحال جو فائل عدالت کے سامنے ہے، اسی مقدمے میں حفاظتی ضمانت دی جا رہی ہے۔ وکیل نے عدالتی نظائر پیش کرنے کی پیشکش کی جس پر عدالت نے کہا کہ ان کی نقول فراہم کر دی جائیں، فی الحال اسی مقدمے تک محدود رہتے ہوئے حکم دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف نئی ایف آئی آر سامنے آنے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں واقع لیگل برانچ کو تالا لگا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق لیگل برانچ کے عملے پر ایف آئی آر لیک کرنے کا الزام ہے، جس پر پولیس کے سینئر افسران کے حکم پر یہ اقدام کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ایف آئی آر جولائی میں درج کی گئی تھی، تاہم اس مقدمے میں انہوں نے ضمانت نہیں کروائی تھی۔ نئی پیش رفت کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ گزشتہ روز سے حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود تھے، جہاں آج عدالت نے انہیں عارضی ریلیف فراہم کر دیا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے