اسلام آباد :سپریم کورٹ آف پاکستان نے سزائے موت سے متعلق تمام زیر التوا اپیلیں آئندہ 45 دن کے اندر نمٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم کورٹ میں منعقدہ ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس میں کیا گیا، جسے عدالتی نظام میں تیزی اور شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں عدالتی اصلاحات، مقدمات کی درجہ بندی، ٹیکنالوجی کے استعمال اور فوجداری اپیلوں کے جلد از جلد فیصلے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے منصب سنبھالنے کے وقت، 26 اکتوبر 2024 کو سزائے موت کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 384 تھی، جو اب کم ہو کر 107 رہ گئی ہے، اس دوران 172 نئی سزائے موت کی اپیلیں دائر ہوئیں جبکہ مجموعی طور پر 449 اپیلیں نمٹائی گئیں، جو عدالتی کارکردگی میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کیس کیٹیگرائیزیشن کا عمل آئندہ دو ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا جبکہ مقدمات کی فائلوں کی ٹریکنگ کے لیے بار کوڈنگ سسٹم اگلے 15 دنوں میں فعال ہو جائے گا، اس اقدام کا مقصد مقدمات کے ریکارڈ کو مؤثر انداز میں منظم کرنا اور فیصلوں میں تاخیر کو کم کرنا ہے۔
چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس میں عمر قید کے مقدمات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصب سنبھالنے کے وقت عمر قید کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 4160 تھی، جو کم ہو کر 3608 رہ گئی ہے، عمر قید کی اپیلوں کو نمٹانے کے لیے باقاعدہ ٹائم لائن سزائے موت کی اپیلیں نمٹانے کے بعد طے کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے سزا یافتہ ملزمان کی جیل پٹیشنز کو ترجیحی بنیادوں پر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ عدالتی ریکارڈ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے جو عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بار ایسوسی ایشن کا پٹیشنز کی سافٹ کاپیز اور ای فائلنگ کے نظام میں تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے انصاف کی بروقت فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
