English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایم کیو ایم کا کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ

القمر

کراچی: متحدہ قومی موؤمنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ نے کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا۔

کراچی کے بہادرآباد آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیوایم کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کراچی میں جاری تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی دارالحکومت کے دائرہ اختیار میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شہر پہلے ایسا نہیں تھا، اب یہاں کے شہری مسلسل خطرات اور جان لیوا واقعات کا سامنا کر رہے ہیں، دنیا چاند پر جارہے ہیں، کراچی میں بچے گٹر میں گرکر مرجاتے ہیں،  اس شہر کے رہنے والوں کی نسل کشی ہو رہی ہے اور یہ ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے اور وہ شہریوں کے تحفظ اور ذمہ داریوں کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن بنیادوں پر آپ خود کھڑے ہیں، انہی کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے، جب کراچی لہولہان ہوتا ہے تو اس کا اثر پورے پاکستان پر پڑتا ہے، بات کا معیار اور لہجہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ دیکھنا چاہیے، فوری طور پر کراچی کو وفاقی انتظام کے
تحت لایا جائے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کے 18 سال بعد بھی جب بلدیاتی امور اور آتشزدگی کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں تو جواب میں الزام ایم کیو ایم پر ڈال دیا جاتا ہے کہ انہوں نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی، شہر میں ہونے والے حادثات اور آگ کے واقعات کے ذمہ دارانہ مسائل کو حل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم نے ریاست کے تعاون سے شہر میں غیرقانونی اسلحہ جمع کر کے حکومت کو دیا، تاہم ریاست 30 سالوں تک شہر میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی، سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوٹا سسٹم اور شہری مسائل کے حل میں ناکامی نے شہریوں کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔

وزیر نے کہا کہ شہر کے شہری مسلسل دہشت گردی اور بے یقینی کی لپیٹ میں ہیں، یہ شہر کن لوگوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، ایک دن میں 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور یہ کھلی کھلی جمہوری دہشتگردی ہے، کتنے اور لوگ جل کر موت کے منہ میں جائیں گے، کتنے بچے گٹر میں گر کر اپنی جانیں کھویں گے اور آخر ہماری داد رسی کب ہوگی؟

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام ہیں اور وزیراعظم کی خواہشات کے باوجود پیپلزپارٹی کے دباؤ کے باعث کراچی کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا اور کراچی کو مالی و انتظامی طور پر وفاق کے تحت لایا جائے تاکہ شہریوں کی جانوں اور معاشرتی وسائل کی حفاظت کی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے تحت جاری موجودہ نظام اب شہر کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے، جس سے شہریوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، 18ویں ترمیم کے اثرات فوری طور پر ختم کیے جائیں اور کراچی کو وفاق کے دائرہ اختیار میں شامل کر کے ایک مضبوط اور محفوظ انتظامیہ فراہم کی جائے۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے