English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی: ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر حملہ، بہیمانہ تشدد

القمر

بھارت میں ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جہاں مذہبی جنون اور نفرت پر مبنی سوچ انسانی اقدار کو مسلسل پامال کر رہی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق تازہ واقعہ ریاست اوڈیشہ میں پیش آیا، جہاں انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل سے وابستہ ایک مشتعل ہجوم نے ایک پادری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے نے بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ اور قانون کی عملداری پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بھارتی اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عیسائی پادری اپنے اہلِ خانہ اور دیگر افراد کے ساتھ ایک نجی رہائش گاہ میں دعائیہ اجتماع میں شریک تھے۔ اسی دوران انتہا پسندوں نے گھر پر دھاوا بول دیا، مذہبی نعرے بازی کی اور پادری کو زبردستی باہر نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق پادری کو نہ صرف لاٹھیوں اور گھونسوں سے مارا پیٹا گیا بلکہ ان کے ساتھ انتہائی تذلیل آمیز سلوک بھی کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جنونی ہجوم نے پادری کو زبردستی گائے کی غلاظت کھلانے کی کوشش کی اور جئے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا۔ اس دوران ان کے چہرے پر سرخ سندور بھی مل دیا گیا اور انہیں جوتوں کا ہار پہنا کر گاؤں کی گلیوں میں گھمایا گیا۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے بارہا پولیس سے مدد کی اپیل کی گئی، تاہم مبینہ طور پر پولیس نے موقع پر پہنچنے سے گریز کیا، جس سے حملہ آوروں کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات بھارت میں سماجی انتشار کو بڑھا رہے ہیں اور مختلف طبقات کے درمیان نفرت کی خلیج کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس کے نظریاتی اثرات اور مودی حکومت کی خاموش حمایت نے انتہا پسند عناصر کو بے لگام کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی بھی بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور موثر قانون سازی پر زور دے چکی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے