English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

برطانیہ: آج طوفان چندرا کے ٹکرانے سے نظام زندگی متاثر ہونے کا خدشہ

القمر

برطانیہ کو ایک بعد ایک طوفان کا سامنا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق آج برطانیہ سے ٹکرانے والا طوفان چندرا اپنے ساتھ تیز ہوائیں اور بارش لے کر آئے گا۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں سال برطانیہ سے ٹکرانے والا یہ تیسرا طوفان ہوگا، طوفان چندرا کے سبب ملک کے بیش تر حصوں میں نظام زندگی متاثر ہونے کا امکان ہے، شمالی آئرلینڈ، جنوب مغربی اور جنوب مشرقی انگلینڈ اور ویلز میں تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے، تیز ہواؤں سے عمارتوں کو نقصان پہنچنے، درختوں کے گرنے اور بجلی جانے کا بھی خدشہ ہے۔

طوفان چندرا کے باعث برطانیہ کے 27 علاقوں میں برف باری کی وارننگ جاری کی گئی ہے، توقع ہے کہ اس طوفان سے ملک بھر میں معمولاتِ زندگی میں خلل پڑ جائے گا۔ یہ وارننگز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سال کے آغاز سے ہی برطانیہ کو مسلسل خراب موسمی حالات کا سامنا ہے۔

برطانیہ میں آنے والا اگلا شدید برفانی طوفان فی گھنٹہ 6 انچ تک برف باری کا سبب بننے جا رہا ہے، جس کا آغاز کل سے متوقع ہے۔ اس دوران مغربی اور شمالی یارکشائر کے بعض علاقوں، خاص طور پر بلند مقامات، موٹی برف کی تہہ سے ڈھک جائیں گے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق بعض علاقوں میں سیلاب اور سفری مشکلات کا بھی خدشہ ہے، جب کہ انگلینڈ کے شمالی حصوں اور اسکاٹ لینڈ کے کچھ علاقوں میں بلند مقامات پر نمایاں برف باری متوقع ہے۔ اونچے علاقوں میں شدید بارش برف میں تبدیل ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں منگل، 27 جنوری کو سفر اور بجلی کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے۔

محکمۂ موسمیات (میٹ آفس) کی جانب سے مجموعی طور پر 10 موسمی وارننگز جاری کی گئی ہیں، اور سڑکوں اور ریل نیٹ ورکس پر بڑے پیمانے پر بدنظمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ان میں سے ایک وارننگ آدھی رات سے شروع ہو کر شام 5 بجے تک نافذ رہے گی۔ یہ وارننگ انگلینڈ کے شمالی علاقوں، بشمول گریٹر مانچسٹر، پر لاگو ہوگی، جہاں بعض مقامات پر 20 سینٹی میٹر تک برف پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم نشیبی علاقوں میں تقریباً 5 سینٹی میٹر برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اسکاٹ لینڈ میں برف باری کی ایک علیحدہ وارننگ جاری کی گئی ہے جو صبح 6 بجے سے شروع ہو کر بدھ، 28 جنوری کو رات 12 بجے تک جاری رہے گی۔

  • ویب ڈیسک
  • مرزا ندیم بیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے