English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بنگلادیش انتخابات: عوامی لیگ کو باہر رکھنا عدم استحکام کو جنم دے گا، حسینہ واجد

القمر

بنگلا دیش سے فرار ہوکر بھارت میں جلاوطنی اختیار کرنے والی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے آئندہ عام انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا بنگلا دیش کو شدید قومی عدم استحکام کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات شفاف، آزاد اور سب کی شمولیت کے بغیر ہوئے تو ملک ایک طویل سیاسی بحران کا شکار رہے گا۔

شیخ حسینہ نے خبر رساں ادارے کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ عبوری حکومت نے جان بوجھ کر عوامی لیگ کو انتخابی عمل سے باہر کر کے لاکھوں ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بڑی سیاسی جماعت کو انتخابات سے روکنا عوام میں غم و غصہ پیدا کرتا ہے اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقسیم شدہ قوم کو وہ حکومت متحد نہیں کر سکتی جو اخراج کی بنیاد پر قائم ہو۔ سیاسی عمل میں شمولیت ہی استحکام کی ضمانت ہوتی ہے جب کہ بائیکاٹ اور پابندیاں بحران کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں، جو شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی بار ہو رہے ہیں۔ عبوری حکومت کی قیادت نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں جنہوں نے شفاف اور آزاد انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

انتخابی کمیشن کے مطابق ان انتخابات کی نگرانی کے لیے یورپی یونین اور دولت مشترکہ سمیت تقریباً 500 غیر ملکی مبصرین کو مدعو کیا گیا ہے۔

اُدھر بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمان مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں جب کہ ایک مذہبی جماعت کی قیادت میں اتحاد بھی انتخابی میدان میں موجود ہے۔

شیخ حسینہ، جنہیں 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران ہلاکتوں کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی تھی، نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلا دیش کو سیاسی پابندیوں اور بائیکاٹ کے سلسلے کو ختم کرنا ہوگا تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے