لاہور:بھاٹی گیٹ کے علاقے میں داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور کمسن بیٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں دونوں کی موت کی وجہ سر اور گردن کی ہڈیوں کا ٹوٹ جانا قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں ماں اور بیٹی کو شدید جسمانی چوٹیں آئیں، جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جاں بحق خاتون سعدیہ کے سر پر زخموں کے واضح نشانات پائے گئے جبکہ ان کے دائیں کندھے کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی، سعدیہ کی کمر پر بھی متعدد زخموں کے نشانات موجود تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ گہرے اور خطرناک انداز میں سیوریج لائن میں گریں۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ زخم شدید ضرب لگنے کے باعث آئے۔
رپورٹ میں 9 ماہ کی کمسن بچی ردا فاطمہ سے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جب کہ سر پر بھی چوٹ کے نشانات پائے گئے، بچی کی نازک جسمانی ساخت کے باعث گرنے کے نتیجے میں لگنے والی چوٹیں فوری طور پر جان لیوا ثابت ہوئیں، ماں اور بیٹی دونوں کی موت کی بنیادی وجہ سر اور گردن کی ہڈیوں کا ٹوٹ جانا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم خاتون ڈاکٹر نے کیا، جس کے بعد رپورٹ کو سیل کر دیا گیا ہے، رپورٹ کو متعلقہ تفتیشی اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ بھاٹی گیٹ کے علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں داتا دربار کے قریب مبینہ طور پر سیوریج لائن کا ڈھکن کھلا ہونے کے باعث خاتون اپنی کمسن بیٹی سمیت اس میں جا گری تھیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور شہریوں نے انتظامیہ کی مبینہ غفلت پر سخت احتجاج کیا تھا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں سیوریج لائنوں کے کھلے مین ہولز اور خستہ حال انفراسٹرکچر شہریوں کی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں مگر متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام ممکن ہو۔
