گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے یومِ یکجہتی کشمیر ریلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں ہم نے ہندوستان کو چار دن میں شکست دی اور آج بھی کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر فوری عمل ہونا چاہیے کیونکہ کشمیریوں پر مسلسل ناروا ظلم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے پاس کوئی جواز نہیں، وہ صرف کشمیریوں پر ظلم کے ذریعے اپنی ناکامی چھپا رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کا ہر بچہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ صوبے اور وفاق کے درمیان دو اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور کچھ برف پگھلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ملاقات امن اور خوشحالی کے لیے ہوگی، جبکہ ایپکس کمیٹی کا بھی ایک اہم اجلاس ہوا ہے جس کی تفصیلات انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ جاری کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سزا اور جزا کا نظام مؤثر نہیں۔ اگر نو مئی کے واقعات میں وزیراعلیٰ کا نام ہے تو حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے، ثبوت ہیں تو عدالتیں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچی کی جانب سے پوچھا گیا سوال غلط نہیں تھا، بس عمر واضح کر دی جاتی تو بہتر ہوتا۔
گورنر نے بسنت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ بسنت کی دعوت نہیں دی جاتی، لوگ خود میلے میں جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پنجاب میں بسنت منائی جا رہی ہے تو اپنے صوبے میں احتجاج بے معنی ہے، ہمیں بھی بسنت کی طرح مثبت ایونٹس کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ 28ویں ترمیم کوئی گولا نہیں کہ گرتے ہی سب کچھ بدل جائے، جب ڈرافٹ بنے گا تو ترمیم بھی ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد ایک میلہ منعقد کیا جائے گا جس سے اچھا پیغام جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں سے بات کی بات کرتی رہی، جبکہ بہتر تھا کہ اپنے ہی لوگوں سے بات کی جاتی، اچھا ہوا وزیراعظم سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ کے معاملے میں وفاق بری الذمہ نہیں، اس کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔
گندم کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ انہیں علم نہیں وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے بات کی یا نہیں، اگر نہیں کی تو وہ خود آج وزیراعظم سے اس معاملے پر بات کریں گے۔
