اسلام آباد: بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی ) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفا منظور کر لیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بی این پی کے سربراہ اختر مینگل کا استعفا منظور کیا ہے۔
سردار اختر مینگل این اے 256 خضدار سے قومی اسمبلی کے رکن تھے تاہم انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے 3 ستمبر 2024ءکواستعفا دے دیا تھا، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ کااستعفا اب تقریباً 17 مہینے بعد منظور کرلیا گیا۔
اس حوالے سے سینئر اینکر پرسن حامد میر نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ اختر مینگل کا قومی اسمبلی سے استعفاوفاقی حکومت کےلیے ایک سرپرائز ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اختر مینگل کو کوئٹہ میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی لیکن اختر مینگل نے وزیراعظم کو یہ کہہ کر معذرت کر لی تھی کہ میں تو اسٹیک ہولڈر ہی نہیں۔
میری پارٹی کے پاس تو قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست ہے، زیادہ نشستیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے پاس ہیں، اس لیے وہی اسٹیک ہولڈر ہیں، بلوچستان کا مسئلہ بھی یہی جماعتیں حل کریں۔
حامد میر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت سے اختر مینگل کا انکار خطرے کی گھنٹی تھی لیکن حکومت کو اس گھنٹی کی آواز ہی سنائی نہیں دی کیونکہ اس حکومت کی اپنی حالت ایک ایسی گھنٹی کی ہے جسے کوئی اور اپنی مرضی کے مطابق بجاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے سال تک اختر مینگل کی جماعت شہباز شریف کی مخلوط حکومت میں شامل تھی صرف ایک سال میں ایسا کیا ہوا کہ اختر مینگل ناصرف شہباز شریف سے مایوس ہو گئے بلکہ انہوں نے قومی اسمبلی سے بھی استعفا دے دیا؟۔
