لاہور سفاری زو میں پہلی بار شیر کے بچوں کا سب سے بڑا گروپ تیار کیا گیا ہے، جس میں مجموعی طور پر دس نر و مادہ بچے شامل ہیں۔ یہ ننھے شیر ان دنوں سفاری پارک آنے والے شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور خاص طور پر بچوں میں بے حد مقبول ہو رہے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق حالیہ برسوں میں بگ کیٹس کی افزائشِ نسل کی شرح میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے باعث ہر سیزن میں ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، موجودہ گروپ میں تین نر اور سات مادہ شیر شامل ہیں، جو اجتماعی طور پر پرورش پا رہے ہیں۔
ڈائریکٹر ویٹرنری سروسز ڈاکٹر رضوان خان نے بتایا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مادہ شیرنی اپنے نوزائیدہ بچوں کو قبول نہیں کرتی، جس سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں بچوں کو فوری طور پر ہینڈ کیئر میں منتقل کیا جاتا ہے اور انہیں خصوصی فارمولا دودھ فراہم کیا جاتا ہے۔ ابتدائی دو ماہ تک انہیں خصوصی دودھ پلایا جاتا ہے، جس کے بعد بتدریج ان کی خوراک میں گوشت شامل کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر رضوان خان کے مطابق ماضی میں عموماً ایک یا دو بچوں کو الگ رکھ کر پرورش دی جاتی تھی، بیرونِ ملک تحقیق کے بعد حکمتِ عملی تبدیل کی گئی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر بچوں کو گروپ کی صورت میں رکھا جائے تو وہ زیادہ متحرک رہتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے اور دوڑتے ہیں، جس سے ان کی جسمانی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔


ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر آمنہ فیاض نے بتایا کہ کم عمری میں شیر کے بچوں کو ہڈیوں اور پٹھوں کی کمزوری کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے انہیں باقاعدہ ورزش کرائی جاتی ہے اور دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔ چار ماہ کی عمر میں بچوں کو گروپوں کی شکل میں الگ انکلوژرز میں منتقل کیا جاتا ہے اور کامیاب گروپنگ کے بعد انہیں لائن سفاری میں بھیج دیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق پنجاب میں اس وقت کیپٹویٹی میں بگ کیٹس کی تعداد تقریباً سات سو کے قریب بتائی جاتی ہے۔ لاہور سفاری زو میں موجود شیر کے یہ دس بچے افزائشِ نسل کے کامیاب پروگرام کی عکاسی کرتے ہیں اور شہریوں کے لیے دلچسپی اور تفریح کا باعث بن رہے ہیں۔
