English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے بعد امریکی جنگی طیاروں کی ایران کے قریب تعیناتی

القمر

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے تہران کو واضح طور پر 10 سے 15 روز کی مہلت دے دی ہے، ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر اس دوران مذاکرات کا آغاز نہ ہوا تو فوجی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے ڈیڈ لائن کے اعلان کے فوراً بعد یورپ میں تعینات امریکی فضائیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جہاں مختلف عسکری اڈوں پر سرگرمیاں غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہیں، خاص طور پر پرتگال کے ایک جزیرے پر واقع امریکی ایئر بیس پر جنگی طیاروں، معاون فضائی اثاثوں اور لاجسٹک سہولیات کی نقل و حرکت میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے ممکنہ فوجی آپریشن کی تیاریوں کا تاثر ملتا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگی طیاروں نے خطے کی سمت پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جب کہ فضائی نگرانی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس عسکری نقل و حرکت کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی عملی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ تہران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

دوسری جانب معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کا براہِ راست امریکی حملہ نہ صرف غیر متوقع نتائج کا حامل ہو سکتا ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع اور خطرناک جنگ کی لپیٹ میں لے جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے کی پہلے سے نازک صورتحال کسی بھی بڑے تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اس سے قبل برطانوی خبر رساں اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے کے آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں، جبکہ بعض اطلاعات میں محدود فضائی اور میزائل حملوں کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کا مقصد محض عسکری دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ ایرانی حکومت کو سیاسی طور پر کمزور کر کے نظام میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

تاحال ایرانی حکومت کی جانب سے ان خبروں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایرانی حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے چند دن خطے کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں سفارت کاری اور جنگ کے درمیان لکیر غیر معمولی حد تک باریک دکھائی دے رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے