English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

گوادر کے قریب نایاب بوہیڈ گٹارفش پکڑی گئی، ماہرین کا فوری تحفظ کا مطالبہ

القمر

گوادر: بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے قریب سمندر سے نایاب اور خطرے سے دوچار سمندری مخلوق بوہیڈ گٹارفش پکڑے جانے کی اطلاع نے ماہرینِ ماحولیات میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

 عالمی فطری حیات کے ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ فار نیچر نے اس نایاب مچھلی کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ نسل پہلے ہی عالمی سطح پر معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔

ادارے کے مطابق یہ مچھلی تقریباً تیس میٹر گہرے پانی سے پکڑی گئی جس کی لمبائی ایک سو چالیس سینٹی میٹر سے زائد اور وزن پینسٹھ کلوگرام سے زیادہ بتایا گیا ہے، اس نوع کی عالمی آبادی میں تقریباً اسی فیصد کمی واقع ہو چکی ہے جس کی بنیادی وجہ ضرورت سے زیادہ شکار اور غیر قانونی ماہی گیری ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر اس مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے مگر اس کے باوجود غیر قانونی شکار کے باعث اس کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ماہرین حیاتیات کے مطابق اس نسل کی افزائشِ نسل کی رفتار بہت سست ہے کیونکہ مادہ مچھلی ایک وقت میں بہت کم بچے دیتی ہے، جس کے باعث اس کی آبادی قدرتی طور پر تیزی سے بحال نہیں ہو پاتی۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں بھی اس کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو سمندری ماحولیاتی توازن کے لیے خطرے کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے