اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی اس وقت نمایاں ہوگئی جب اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے معاملات بہتر کرے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔
علامہ راجاناصر عباس نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے بات چیت کرے تو وہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ سیاسی استحکام برقرار رہے گا اور حکومت کو گرانے کی کوئی کوشش نہیں ہونے دیں گے۔
راجا ناصر عباس نے تجویز دی کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ سیاسی تناؤ کم کیا جا سکے اور مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پر قائم مقدمات بے بنیاد ہیں، انہیں اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ان کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے، انہیں طبی طور پر ایک اور انجیکشن لگنا ہے، اس لیے حکومت کو انسانی ہمدردی کے تحت اقدامات کرنے چاہئیں۔
اپوزیشن لیڈر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے حکومتی سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی ضد پر قائم رہے اور کسی بات کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو تو حکومت کیا کر سکتی ہے، حکومت ملک کی بہتری کے لیے بات چیت پر تیار ہے لیکن اپوزیشن قیادت خود سیاسی عمل کا حصہ بننے سے انکار کرتی رہی ہے، جو حلقے مذاکرات چاہتے ہیں ان سے رابطہ نہیں کیا جاتا جبکہ جو آمادہ نہیں ہوتے انہیں درخواستیں دی جاتی ہیں۔
رانا ثنا نے مزید کہا کہ عمران خان کے علاج کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان اس کا نوٹس لے چکی ہے، عدالت کی جانب سے معاونِ عدالت مقرر کیا گیا ہے اور حکومت نے علاج کے تمام انتظامات مکمل کیے ہیں، اس لیے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے قانونی طریقہ کار پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔
