امریکا کے محکمۂ انصاف نے یہود مخالف سرگرمیوں کو نظر انداز کرنے کے الزام میں کیلیفورنیا کی جامعہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
جامعہ پر الزام ہے کہ اس کے لاس اینجلس کیمپس میں یہود مخالف ماحول پایا گیا اور انتظامیہ اس کی روک تھام میں ناکام رہی۔
محکمۂ انصاف کے مطابق ایسے واقعات کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنا وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
دوسری جانب جامعہ کی انتظامیہ کی طرف سے مقدمے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل نومبر میں ایک وفاقی جج نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو جامعہ پر ایک ارب ڈالر سے زائد جرمانہ عائد کرنے سے روک دیا تھا۔ یہ جرمانہ کیمپس میں مبینہ یہود مخالف سرگرمیوں کی روک تھام میں ناکامی پر عائد کیا جانا تھا۔
اگست میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے بعد امریکی حکومت نے جامعہ کی پانچ سو چوراسی ملین ڈالر کی مالی معاونت بھی معطل کر دی تھی۔
