یورپ:بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں یورپ کی خارجی سرحدوں پر کم از کم80 ہزار 8سو65 مہاجرین کو غیر قانونی طور پر واپس بھیجا گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اکثر پش بیک کی صورت میں کی گئی، جس کا مطلب ہے کہ مہاجرین کو بغیر قانونی طریقے یا پناہ کی درخواست کا حق دیے زبردستی سرحد پار واپس بھیج دینا۔ اکثر پش بیک کے دوران مہاجرین پر تشدد بھی کیا جاتا ہے اور انہیں محفوظ راستہ یا پناہ تک رسائی نہیں دی جاتی جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے پناہ گزین کنونشن کے تحت غیر قانونی ہے۔
ایک نوجوان مصری نے بتایا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو رات تین بجے دریا میں پھینک دیا گیا۔ وہ چالیس افراد کے ساتھ سفر کر رہا تھا جن میں بارہ نابالغ بھی شامل تھے۔ انہیں مارا پیٹا گیا اور پھر بوسنیا اور ہرزیگووینا کی سرحد پر دریا میں دھکیل دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعات الگ تھلگ نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ جنوری 2025 میں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے بھی تصدیق کی کہ یونان میں پش بیک کے یہ واقعات منظم ہیں۔
حال ہی میں کچھ مہاجرین کی کشتی یونانی کوسٹ گارڈ سے ٹکرا گئی، جس میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ بلغاریہ بھی ایسے واقعات میں ملوث پایا گیا۔
حقوق انسانی کی تنظیموں نے یورپی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ مہاجرین کو پناہ کے قانونی حق تک رسائی دی جائے، غیر قانونی پش بیک بند کیے جائیں اور سب کی زندگی اور حقوق محفوظ کیے جائیں۔
