اسلام آباد:محکمہ جنگلی حیات نے غیرقانونی شکار کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کتوں کے ذریعے خرگوش کا شکار کرنے والے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا، یہ کارروائی صوبہ سندھ کے جنگلاتی علاقوں میں کی گئی، جہاں قانون کے مطابق جنگل یا محفوظ علاقوں میں خرگوش کا شکار کرنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ گرفتار ملزمان پر مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے بتایا کہ پاکستان میں کچھ مخصوص علاقوں میں شکار پر اجازت ہے، جیسے کہ پرانے شکار فارم یا کنٹرولڈ شکار کے مراکز لیکن جنگلات اور محفوظ جنگلی علاقوں میں جانوروں کا شکار قانونی طور پر جرم ہے۔ اس سلسلے میں خرگوش شکار کی سرگرمیاں غیر قانونی قرار پائی ہیں اور اس پر سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔


دوسری جانب سوشل میڈیا پر تیتر کی خرید و فروخت میں ملوث دو ملزمان کے خلاف بھی محکمہ جنگلی حیات نے کارروائی کی، ملزمان کو گرفتار کر کے ان پر 80 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے برآمد کیے گئے 25 تیتر بازیاب کروا کر محفوظ علاقوں میں آزاد کر دیے گئے، تاکہ پرندوں کی قدرتی آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔
محکمہ جنگلی حیات کے ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں اور غیر قانونی شکار یا خرید و فروخت میں ملوث افراد کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں،غیر قانونی شکار نہ صرف حیوانات کی تعداد میں کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کو بھی متاثر کرتا ہے۔
یہ کارروائی غیر قانونی شکار کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد جنگلات اور جنگلی حیات کے محفوظ رہائشی علاقوں میں پرندوں اور جانوروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
