English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ماہِ رمضان میں مہنگائی کی نئی لہر، فروری میں شرح سات فیصد تک پہنچ گئی

القمر

اسلام آباد: ماہِ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا جبکہ فروری کے دوران مہنگائی کی شرح بڑھ کر سات فیصد تک جا پہنچی ہے۔

 وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں صفر اعشاریہ تین فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ ماہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی رفتار شہروں کی نسبت زیادہ رہی۔ دیہی علاقوں میں مہنگائی سات اعشاریہ تین فیصد جبکہ شہری علاقوں میں چھ اعشاریہ آٹھ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جولائی تا فروری مہنگائی کی اوسط شرح پانچ اعشاریہ چھیالیس فیصد رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر ٹماٹر تئیس فیصد، پھل گیارہ اعشاریہ اڑتالیس فیصد اور دال ماش آٹھ اعشاریہ انیس فیصد مہنگی ہوئی۔ اسی طرح مشروبات ایک اعشاریہ پینسٹھ فیصد اور گوشت ایک اعشاریہ پینتالیس فیصد مہنگا ہوا۔ دال مونگ، خشک میوہ جات اور گندم کی مصنوعات بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق بجلی کے ٹیرف میں ماہانہ بنیاد پر دس فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ لانڈری چارجز اور ٹیلر فیس میں دو، دو فیصد اور کوئلہ ایک اعشاریہ اکہتر فیصد مہنگا ہوا۔ دوسری جانب کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جن میں انڈے بائیس فیصد، چکن بیس فیصد، آلو سولہ فیصد، دال مسور چار فیصد، پیاز تین اعشاریہ نو صفر فیصد اور سبزیاں تین اعشاریہ اٹھاسی فیصد تک سستی ہوئیں۔ بیسن، گھی، کوکنگ آئل، گڑ اور چینی کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔

سالانہ بنیاد پر غذائی اشیا چار اعشاریہ اٹھاون فیصد تک مہنگی ہوئیں جبکہ جلد خراب ہونے والی کھانے پینے کی اشیا صفر اعشاریہ بیالیس فیصد تک سستی ہوئیں۔ کپڑے اور جوتے پانچ اعشاریہ بہتر فیصد، ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور فیول دس فیصد مہنگے ہوئے۔ صحت کی سہولیات چھ اعشاریہ چوبیس فیصد اور تعلیم آٹھ اعشاریہ اٹھہتر فیصد تک مہنگی ہوئی۔

فروری دو ہزار چھبیس میں مہنگائی سات فیصد رہی جبکہ جنوری میں یہ شرح پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تھی۔ گزشتہ سال فروری دو ہزار پچیس میں مہنگائی ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر تھی۔

عوام کا کہنا ہے کہ ماہِ رمضان میں قیمتوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانے کے لیے سخت نگرانی کا نظام قائم کرے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے