ترکیہ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی کرد مسلح گروہ پی جے اے کے کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کی کارروائیاں ایران کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ ایرانی کرد ملیشیاؤں اور امریکا کے درمیان ایران کے خلاف جاری امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے بارے میں مشاورت ہوئی ہے۔
منگل کے روز ذرائع نے بتایا تھا کہ ایرانی کرد ملیشیاؤں نے امریکا سے یہ مشورہ کیا کہ وہ ایران کے مغربی علاقوں میں ایرانی سکیورٹی فورسز پر کس طرح حملے کر سکتی ہیں۔
اس سے قبل امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی کردوں نے ایران پر زمینی حملہ شروع کر دیا ہے۔ ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک اہلکار نے کہا کہ تقریباً ایک ہزار عراقی کردوں نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ہزاروں کرد سرحد عبور کر کے ایرانی علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں۔
