English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جی ایچ کیو حملہ کیس: عمر ایوب، شبلی فراز ، مراد سعید سمیت 47 ملزمان کو 10، 10 سال قید

القمر

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10سال قید اور فی کس 5، 5لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے جبکہ ملزمان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سنایا جبکہ سرکاری وکیل کی حیثیت سے اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مقدمے کی پیروی کی۔

عدالت کی جانب سے سزا پانے والے ملزمان میں عمر ایوب خان، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، احمد اظہر، شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ، شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرہ اور اعجاز خان جازی سمیت دیگر شامل ہیں۔ سزا یافتہ افراد میں کنول شوزب، حماد اظہر اور شیخ راشد شفیق بھی شامل ہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق تمام 47 ملزمان اشتہاری قرار دیے گئے تھے ۔ قانون کے مطابق انہیں 10 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزمان کو مزید قید کی سزا بھی بھگتنا ہوگی جبکہ ان کی جائیدادیں بھی ضبط کی جائیں گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سزا پانے والے ملزمان 9 مئی کے واقعات کی سازش میں ملوث پائے گئے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کے مطابق ملزمان پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی میں شامل تھے اور انہیں 9 مئی کے واقعات میں مرکزی کردار قرار دیا گیا۔

فیصلے کے مطابق سزا یافتہ ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ، آرمی میوزیم اور سکستھ روڈ میٹرو اسٹیشن پر حملوں میں ملوث پائے گئے جبکہ ان پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

عدالت نے فیصلے میں بتایا کہ اس مقدمے میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سمیت مجموعی طور پر 118 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جو دسمبر 2024 میں عائد کی گئی تھی۔ مقدمے میں اب تک استغاثہ کے 44 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 118 ملزمان میں سے 18 ملزمان دوران ٹرائل عدالت سے مسلسل غیر حاضر رہے جبکہ 29 ملزمان مقدمہ درج ہونے کے بعد کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔

عدالت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن 21 ایل کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا۔ پراسیکیوشن نے رواں سال 6 جنوری کو سیکشن 19/10 کے تحت اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دائر کی جس پر عدالت نے انکوائری تشکیل دی۔

عدالتی انکوائری میں 47 ملزمان کو دانستہ طور پر مفرور قرار دیا گیا جس کے بعد عدالت نے ان کے خلاف اخبارات میں اشتہار جاری کروایا اور 8 جنوری کو اشتہار شائع کیا گیا۔ عدالت نے اشتہاری ملزمان کو سات دن کے اندر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا موقع بھی دیا تاہم کوئی بھی ملزم پیش نہ ہوا۔

بعد ازاں عدالت نے اشتہاری ملزمان کے لیے اسٹیٹ کونسل مقرر کرکے ان پر فرد جرم عائد کی۔ اس دوران پراسیکیوشن نے 19 گواہان کے بیانات عدالت میں ریکارڈ کرائے جبکہ اسٹیٹ کونسل نے استغاثہ کے گواہان پر جرح بھی کی۔

47 اشتہاری ملزمان کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا اور تمام ملزمان کو 10، 10 سال قید، 5 ، 5 لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے