اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں مختلف اہداف پر وسیع پیمانے پر فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کردی گئی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا ہے کہ تہران میں سرکاری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے تہران کے مغربی حصے میں ایک زور دار دھماکے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر فضائی حملہ کیا گیا جہاں موجود طیاروں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ اسی دوران شہر کے مغربی علاقوں میں بھی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
خلیجی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران کے مشہور آزادی ٹاور کے قریب بھی شدید بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں قریبی کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ حملوں کے بعد دھوئیں کے بادل دور دور تک دکھائی دیتے رہے۔
تاحال ان حملوں میں ہونے والی ممکنہ ہلاکتوں یا زخمیوں کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوسکی جبکہ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ تباہ ہونے والی عمارتیں رہائشی تھیں یا ان میں سرکاری دفاتر قائم تھے۔
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں۔ ایرانی میزائلوں کے بعد اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران میں ایک فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی اصغر حجازی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
