English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ارکانِ پارلیمان کے اثاثوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے کی تجویز پر آئی ایم ایف کا اعتراض

القمر

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات کو خفیہ رکھنے سے متعلق مجوزہ قانونی ترمیم پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے اس معاملے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔

ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے اس ترمیم کو شفافیت کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ اس پر واضح مؤقف اختیار کیا جائے اور اس قانون سازی کے مضمرات سے آگاہ کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے آئی ایم ایف کو بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن شفافیت کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا عمل انتخابی شفافیت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس نظام کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

علاوہ ازیں لاء ڈویژن نے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ حکومت نے ابھی تک ان ترامیم کی باضابطہ حمایت نہیں کی جنہیں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین قومی اسمبلی نے نجی بل کے طور پر پیش کیا تھا۔

حکام کے مطابق یہ قانون سازی نجی رکن کے بل کی صورت میں سامنے آئی تھی اور حکومت نے اس بارے میں کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے لاء ڈویژن سے اس معاملے پر مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کے افشا سے متعلق قوانین میں کسی بھی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔

بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں اس ترمیم کو اس وقت منظور کیا تھا جب مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

مجوزہ ترمیم کے تحت قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کی عوامی سطح پر دستیاب معلومات کو محدود کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس ترمیم کے مطابق سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والی معلومات کی حد کا تعین بھی سرکاری گزٹ کے ذریعے ہی کیا جانا تھا۔

یہ بل گزشتہ سال مئی میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر اور شازیہ مری کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بل ابھی تک مکمل قانون کی حیثیت اختیار نہیں کر سکا کیونکہ سینیٹ میں اس پر ووٹنگ نہیں ہو سکی۔ اسی وجہ سے یہ ترمیم باضابطہ طور پر قانون کا حصہ نہیں بنی اور اس پر مزید پارلیمانی کارروائی درکار ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس ملاقات کے دوران قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) میں حالیہ ترامیم کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ گزشتہ ہفتے صدر آصف علی زرداری نے این اے او ترمیمی بل 2026 کی منظوری دی تھی جس کے تحت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کی گئی۔

حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ ماضی میں 2022 کی حکومت نے چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع سے متعلق شق کو حذف کر دیا تھا جس پر اس وقت آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ آئی ایم ایف کا مؤقف تھا کہ مدت میں توسیع پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم تازہ بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف نے اس بات پر زور دیا کہ چیئرمین نیب سمیت اہم سرکاری تقرریوں کے لیے زیادہ شفاف اور واضح طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔ ادارے کے مطابق احتساب کے نظام کی ساکھ اور اعتماد برقرار رکھنے کے لیے تقرریوں اور اختیارات کے طریقہ کار کو شفاف بنانا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے