پیانگ یانگ :شمالی کوریا نے ایک مرتبہ پھر اسٹریٹجک کروز میزائلوں کا تجربہ کر لیا ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جنوبی کوریا اور امریکا اس ہفتے اپنی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کر چکے ہیں، جنہیں پیانگ یانگ طویل عرصے سے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے سربراہ کم جونگ اُن نے منگل کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے اسٹریٹجک کروز میزائلوں کے اس تجربے کا معائنہ کیا، کم جونگ اُن نے تجربے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ملک کو اپنی جوہری دفاعی صلاحیت کو مضبوط اور قابلِ اعتماد رکھنا ہوگا اور اسے مزید وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں کم جونگ اُن کی بیٹی جو اے کو بھی میزائل تجربے کی نگرانی کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میزائل تجربہ کامیابی سے مکمل کیا گیا اور اس کا مقصد ملک کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔ رپورٹ میں میزائلوں کی رینج یا دیگر تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، یہ تجربہ ملک کی اسٹریٹجک دفاعی طاقت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا اور امریکا مشترکہ فوجی مشقیں جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، تاہم شمالی کوریا انہیں اشتعال انگیز کارروائی قرار دیتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی شمالی کوریا نے اپنی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر جنگی جہاز سے اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا۔
