English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران پر امریکی کارروائیاں بارہویں روز میں داخل، اسرائیل کا تہران میں وسیع پیمانے پر حملوں کا دعویٰ

القمر

تہران: ایران پر امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں مسلسل بارہویں روز بھی جاری ہیں، اور اسرائیلی حکام نے تہران میں بڑے پیمانے پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، دارالحکومت کے مرکزی علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جن میں ایک بینک بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ملازم جان کی بازی ہار گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکا اور اسرائیل نے تقریباً دس ہزار شہری مقامات پر حملے کیے ہیں، ان حملوں میں اب تک 1300 سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کے انقلاب اسکوائر کے قریب نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے نکالی گئی ریلی کے دوران امریکی اور اسرائیلی افواج نے حملہ کیا۔ دھماکوں کی گونج کے باوجود ایرانی شہری خوفزدہ نہیں ہوئے بلکہ اپنی پوزیشن مضبوط رکھتے ہوئے مزاحمت جاری رکھی، ایرانی عوام نے دھماکوں کے ماحول میں بھی جوش و جذبے کے ساتھ قومی پرچم بلند کیے اور امریکا و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بلند کرتے ہوئے اپنی وطن پرستی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

عالمی میڈیا کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دو ڈرون گرنے کے واقعے میں چار افراد زخمی ہو گئے، زخمی ہونے والوں میں گھانا کے دو شہری جبکہ بنگلہ دیش اور بھارت کا ایک ایک شہری شامل ہے۔

 ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی خبریں میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، تاہم ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بالکل محفوظ ہیں اور ان کی حالت خیریت سے ہے، قبل ازیں اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اسرائیلی حملے کے دوران پیروں پر معمولی زخم آئے۔

امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے کمرشل جہازوں کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، نیوی نے خبردار کیا ہے کہ اس آبنائے میں انتہائی سنگین خطرات موجود ہیں اور موجودہ حالات میں امریکی بحریہ کسی بھی تجارتی جہاز کو تحفظ فراہم کرنے کی اہل نہیں۔  شپنگ کمپنیاں روزانہ کی بنیاد پر نیوی سے سیکیورٹی کی درخواستیں کر رہی ہیں، جنہیں اس وقت مسترد کیا جا رہا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل ازیں بحری جہازوں کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی مشیر خارجہ کمال خرازی نے کہا ہے کہ ایران کے طویل جنگی آپشن نہ رکھنے کے بارے میں امریکی دعوے سراسر پروپیگنڈا ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی عوام اور فوج کی حقیقت کا اندازہ نہیں، اس لیے وہ ایران کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دے رہے ہیں، ایران اپنے تمام ہتھیار خود ہی ملکی سطح پر تیار کرتا ہے اور کسی قسم کی درآمد پر انحصار نہیں کرتا، پُرعزم ایرانی افواج مکمل صلاحیت رکھتی ہیں کہ وہ طویل عرصے تک کسی بھی جنگ میں کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث فضائی بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور آج بھی پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ جانے والی 83 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، کراچی سے دوحہ، بحرین، دبئی اور ابوظبی کے لیے 18 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ لاہور سے دوحہ، کویت، دبئی، شارجہ اور ابوظبی کے لیے 22 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

اسی طرح اسلام آباد سے دوحہ، کویت، بحرین، ابوظبی اور ریاض کی 19 پروازیں آپریٹ نہیں ہو سکیں۔ پشاور سے مشرق وسطیٰ کے 16 شیڈولڈ پروازیں منسوخ ہونے کے بعد صرف 8 پروازیں روانہ ہو رہی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کراچی سے 14، لاہور سے 13 اور اسلام آباد سے 20 پروازیں مشرق وسطیٰ کے لیے آپریشنل ہیں اور ملک کے تمام ائرپورٹس سے آج مجموعی طور پر 72 پروازیں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہو رہی ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے