جنوبی لبنان میں کشیدگی نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں اسرائیلی فوج نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کے دستوں نے زمینی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے، یہ آپریشن حزب اللہ کے ٹھکانوں اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے، جبکہ میدان جنگ میں دونوں جانب سے شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑائی کا مرکز جنوبی لبنان کا اہم شہر خیام بن گیا ہے، جہاں اسرائیلی جنگی طیاروں نے کم از کم تین فضائی حملے کیے۔ پیر کی صبح قریبی قصبے یطار کو بھی فضائی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، ان حملوں کے نتیجے میں فوری طور پر بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں السوانہ، قنطارا، کرقا، سلطانیہ اور برج القلاویہ میں بھی بمباری کی ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد سرحدی علاقوں میں دفاعی پوزیشن کو مستحکم بنانا اور حزب اللہ کے جنگی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے تاکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق خیام شہر جغرافیائی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اسرائیلی سرحد اور لاطینی دریا کے قریب ایک بلند مقام پر واقع ہے۔ اس مقام سے شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے، اسی وجہ سے یہ علاقہ دونوں فریقوں کے لیے عسکری لحاظ سے نہایت حساس سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں انسانی بحران کی صورتحال بھی پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شدید بمباری اور لڑائی کے باعث اب تک تقریباً آٹھ لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لبنان میں جاری حملوں اور جھڑپوں کے دوران اب تک کم از کم 850 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں تشویش اور غیر یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
