امریکی جریدے بلوم برگ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک نیا حساس راستہ سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی ساحل کے قریب سے گزرنے والا ایک پاکستانی تیل بردار جہاز اس نئے محفوظ راستے کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق ایران کی جانب سے ایک غیر رسمی بحری نقل و حرکت کا نظام بھی سامنے آیا ہے، جس کے تحت جہازوں کو محفوظ گزر کے لیے ایرانی حکام سے سیاسی منظوری حاصل کرنا ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ نیا راستہ لارک جزیرہ اور قشم جزیرہ کے درمیان واقع ہے، جو اب ایک اہم اور حساس سمندری گزرگاہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق بھارت اور ترکی سمیت کئی ممالک نے ایران سے محفوظ راہداری فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
دوسری جانب بیمہ فراہم کرنے والے ادارے اور بینک ایرانی راستے پر بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
