تہران:ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے مسلم ممالک کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے جس میں انہوں نے حالیہ جنگی صورتحال کے تناظر میں اسلامی دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف متحد ہو کر مؤقف اختیار کریں۔
علی لاریجانی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے چھ نکاتی خط میں کہا کہ ایران کو مذاکرات کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن کا مقصد ایران کو کمزور کرنا تھا، ان حملوں میں سپریم کمانڈر، متعدد فوجی کمانڈر اور عام شہری شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ چند محدود مواقع کے علاوہ کوئی بھی اسلامی ملک ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا، اس کے باوجود ایران نے اپنے مضبوط عزم کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا اور اب مخالف قوتیں اس اسٹریٹیجک بحران سے نکلنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
علی لاریجانی نے کہا کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی پالیسی پر قائم ہے، بعض اسلامی حکومتوں کا طرز عمل اس کے برعکس نظر آتا ہے، کیا یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے، جہاں ایک مسلمان کی مدد کی پکار پر لبیک کہنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض ممالک نے ایران کو اپنا دشمن قرار دیا کیونکہ ایران نے ان کی سرزمین پر موجود امریکی اڈوں اور امریکا و اسرائیل کے مفادات کو نشانہ بنایا، کیا ایران سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ خاموش رہے جبکہ انہی اڈوں کے ذریعے اس پر حملے کیے جائیں۔
خط میں انہوں نے مسلم دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مستقبل پر سنجیدگی سے غور کریں کیونکہ امریکا قابل اعتماد نہیں جبکہ اسرائیل خطے کے لیے خطرہ ہے، ایران کسی ملک پر غلبہ حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اسلامی ممالک کے ساتھ اتحاد چاہتا ہے۔
علی لاریجانی نے زور دیا کہ اگر امت مسلمہ ایک مضبوط اتحاد قائم کر لے تو اس سے تمام مسلم ممالک کے لیے سلامتی، ترقی اور آزادی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کا مؤثر جواب دیا جا سکتا ہے۔
