English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

 وارانسی:گنگامیں کشتی پرافطارپارٹی کرنے پر14 نوجوان گرفتار

القمر

وارانسی:بھارت میں گنگا ندی میں کشتی پر افطار پارٹی کرنے پر ایک درجن سے زائد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

اترپردیش کے ضلع وارانسی میں گنگا ندی کے وسط میں کشتی پر افطار پارٹی کا انعقاد مسلم نوجوانوں کے لیے مہنگا ثابت ہوا، پولیس نے چکن بریانی کے باقیات گنگا میں پھینکنے کے الزام میں 14 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس پارٹی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور واقعے نے مقامی سطح پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہندو تنظیموں کے افراد میں غصہ پیدا ہو گیا۔ بی جے پی یوتھ مورچہ کے صدر رجت جیسوال نے کوتوالی تھانے میں مقدمہ درج کرایا، جس کے بعد پولیس نے 14 افراد کو گرفتار کر لیا۔

ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک نوجوان نے افطار پارٹی کا اہتمام کیا اور روزہ داروں کو گنگا گھاٹ پر مدعو کیا،وہاں سے ایک پہلے سے بک شدہ کشتی میں سب لوگ سوار ہوئے اور اسی گھاٹ سے نموں گھاٹ تک گئے۔ کشتی میں سوار افراد نے پہلے نماز پڑھی اور بعد میں روزہ کھولا۔

 ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کچھ افراد چکن بریانی کے باقیات کو گنگا میں پھینک رہے ہیں۔ رجت جیسوال کے مطابق، روزہ داروں نے کشتی پر بیٹھ کر چکن بریانی کھائی اور اس کے ہڈیوں کے باقیات گنگا میں ڈال دیے۔

رجت جیسوال نے کہا کہ گنگا ندی ہندو ستانیوں کے لیے اہم مقام ہے، کشتی پر بیٹھ کر چکن بریانی کھانا اور باقیات گنگا میں پھینکنا مذہبی آستھا کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ جان بوجھ کر ہندوئوں کی عقیدت کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مسلم نوجوانوں کے اندر جہادی ذہنیت بڑھ گئی ہے، رجت جیسوال نے کشتی کے کپتان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور اس کا لائسنس منسوخ کرنے کی بھی درخواست کی۔

 واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس کے درمیان تحقیقات شروع ہو گئی ہیں تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کس نے کشتی میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا اور باقیات گنگا میں کیوں پھینکی گئی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے بعد مقامی ہندو کمیونٹی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے،یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی حساس مقامات پر عوامی رویوں میں محتاط رہنا ضروری ہے اور کسی بھی سرگرمی کے دوران ماحول اور عقیدت کا احترام لازمی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے