English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فرانس نے آبنائے ہرمز میں کسی فوجی آپریشن میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا

القمر

یورپ کی بڑی طاقتوں نے خلیجی صورتحال پر محتاط حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ فوجی مہم سے خود کو دور رکھنے کا عندیہ دے دیا ہے، جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ فرانس آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے کسی عسکری آپریشن کا حصہ نہیں بنے گا۔

پیرس میں اپنے بیان کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ان کا ملک موجودہ تنازع کا براہِ راست فریق نہیں، اس لیے کسی بھی فوجی کارروائی میں شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، فرانس اس حساس صورتحال میں طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی اور اسٹریٹجک راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔

ایمانوئیل میکرون نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ فرانس ایک ایسے بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل پر غور کر رہا ہے جو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بعد سمندری راستوں کو محفوظ اور آزاد رکھنے کے لیے کردار ادا کرے۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی تجارت کے اہم گزرگاہوں کو لاحق خطرات کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔

ادھر برطانیہ کے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر بھی اس حوالے سے پہلے ہی اپنا مؤقف سامنے لا چکے ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ لندن بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی فوجی کارروائی میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

یورپی رہنماؤں کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ممالک اس وقت براہِ راست عسکری تصادم سے گریز کرتے ہوئے سفارتی سطح پر بحران کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکا جا سکے اور عالمی تجارتی نظام متاثر نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے