تہران: اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر فضائی حملے کے بعد خطے میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور ایران نے خلیجی ممالک میں موجود اہم تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے باضابطہ طور پر سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں قائم توانائی کے اہم مراکز کو اپنے ممکنہ اہداف قرار دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ان تنصیبات کے قریب رہائش پذیر افراد کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔
ایران نے سعودی عرب کی سامرف ریفائنری اور جبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کی الحسن گیس فیلڈ اور قطر کے مسعیّد پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور راس لفان ریفائنری بھی ان کی دھمکیوں کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔ ایرانی حکام نے ان مراکز کو اب جائز فوجی اہداف قرار دیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری پیغام میں شہریوں اور وہاں کام کرنے والے ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلا تاخیر ان علاقوں سے دور محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔ یہ وارننگ آنے والے چند گھنٹوں کے دوران حملوں کے پیش نظر جاری کی گئی ہے جس سے خطے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
اس کشیدگی کا پس منظر اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر ہونے والا فضائی حملہ ہے۔ اسرائیل نے ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد سے وہاں آگ بجھانے کا کام جاری ہے۔ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی تاحال کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کی تنصیبات پر حملہ کیا جاتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کے بحران اور مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
