اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ترکیہ پر میزائل حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ علاقائی بحران کا واحد حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان عیدالفطر کے موقع پر ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں باہمی خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم نے رجب طیب اردوان اور ان کے اہل خانہ اور ترک عوام کو عید کی دلی مبارک باد پیش کی، جس پر ترک صدر نے بھی پرتپاک انداز میں مبارک باد کا جواب دیا۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے امت مسلمہ کے لیے امن، اتحاد اور خوش حالی کی دعا بھی کی۔
بیان میں کہا گیا کہ گفتگو نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں وزیراعظم نے خطے میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بالخصوص ترکیہ پر ہونے والے میزائل حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پوری قوم اس مشکل وقت میں اپنے ترک بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن حمایت جاری رکھے گی۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل نکالنا ہی دیرپا استحکام کی ضمانت ہے۔
گفتگو کے دوران افغانستان کی موجودہ صورت حال بھی زیر بحث آئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کے فروغ کے لیے ترکیہ کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا، خصوصاً عید کے دنوں میں اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کے حوالے سے ترک کوششوں کو قابل تحسین قرار دیا۔
وزیراعظم نے صدر اردوان کے فروری 2025 میں پاکستان کے تاریخی دورے اور اس کے بعد اپریل اور مئی 2025 میں اپنے دورہ ترکیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ترکیہ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے قریبی رابطے میں رہیں گے۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ علاقائی اور عالمی امور پر مسلسل مشاورت اور رابطہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ مشترکہ مفادات کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
