لندن: برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ ایران کے ممکنہ حملوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد فراہم کی جا سکے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس سے قبل بھی امریکی افواج کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی، خاص طور پر ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کو روکنے اور برطانوی مفادات کے تحفظ کے لیے، اب یہ اجازت آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے بھی دی گئی ہے تاکہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔
واضح رہےکہ امریکی صدر نے نیٹو اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ڈرپوک اور کاغذی شیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے نیٹو ممالک کے لیے فوجی کارروائی کرنا آسان ہے، مگر وہ اس سے گریز کر رہے ہیں۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے برطانیہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر اس نے امریکی حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے فراہم کیے تو اسے جارحیت میں براہِ راست شمولیت تصور کیا جائے گا۔
دوسری جانب برطانوی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے ردعمل میں امریکا کو اپنے دفاعی آپریشنز کے لیے فوجی اڈے دینے پر مجبور ہونا پڑا۔
