واشنگٹن: امریکا نے ایران کے خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد سخت پابندیوں میں 30 دن کے لیے عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی رسد کو یقینی بنانا اور قیمتوں میں جاری غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کے سیکرٹری اسکاٹ بیسینٹ نے واضح کیا کہ یہ عارضی رعایت صرف ان تیل کی کھیپوں کے لیے ہے جو پہلے ہی سمندری راستوں پر ترسیل کے عمل میں شامل ہیں۔ نئے آرڈرز یا مزید معاہدوں پر اس پابندی میں نرمی کا اطلاق ہرگز نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور ایران کے خلاف کارروائیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملوں کے واقعات نے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے میں شدید بے یقینی اور خدشات کو جنم دیا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا اور اسرائیل سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئی ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی معاشی ماہرین کو خبردار کر دیا ہے کہ اگر بحری گزرگاہیں محفوظ نہ رہیں تو معاشی بحران سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض ایک وقتی سہولت ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قلت پیدا نہ ہو۔ حکومت اپنی پالیسیوں کے تحت ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی صورتحال میں نئی ترسیلات کو پابندیوں سے استثنا نہیں دیا جائے گا۔
عالمی طاقتیں اب اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے ایک اشارے کے طور پر دیکھ رہی ہیں، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا 30 دن کی یہ مختصر مدت تیل کی عالمی منڈیوں میں استحکام لانے کے لیے کافی ثابت ہوگی یا نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔
عالمی برادری اب اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ آئندہ کے معاشی اثرات کا درست تعین کیا جا سکے۔
