یومِ پاکستان کے موقع پر سندھ کے گورنر، وزیر اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام نے مزارِ قائد پر حاضری دے کر ملک کے بانی کے حضور عقیدت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر صوبائی کابینہ کے ارکان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ مزارِ قائد پر فاتحہ خوانی کے بعد سیاسی و انتظامی رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف قومی و صوبائی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس میں تاریخ، سیاست اور موجودہ چیلنجز پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک مضبوط قرارداد کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے قیام کی راہ ہموار کی۔
انہوں نے پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہمیں اس عزم کی یاد دلاتا ہے کہ جن مقاصد کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا، انہیں مکمل طور پر حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک عظیم اور باوقار قوم کے طور پر پیش کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
گورنر سندھ نے ایک سیاسی نکتے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہوتے ہیں اور ان کے فیصلے عدالتی نظام کے تحت ہی سامنے آتے ہیں، تاہم اس ضمن میں حکومت کا کردار محدود ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا سیاسی اور عوامی کردار صوبائی قیادت کے ذریعے ادا کیا جا رہا ہے، جس میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اہم ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی مزارِ قائد پر حاضری کے بعد گفتگو کرتے ہوئے یومِ پاکستان کو قومی یکجہتی اور عزمِ نو کا دن قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کی بنیاد رکھی گئی، جبکہ سندھ میں مسلم لیگ نے پاکستان کے قیام کی قرارداد کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو دفاعی طور پر مضبوط بنانے میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ایٹمی پروگرام کا بڑا کردار ہے، جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت اور قربانیوں کی بدولت دشمن کبھی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ترقی اور استحکام کے لیے اندرونی اختلافات کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے عوام بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاق کے ساتھ مالیاتی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی گیس کی فراہمی ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت وفاق کو کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تعاون جاری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے مالی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بجٹ سمیت دیگر معاملات میں اپنے جائز حصے کے لیے آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
اس موقع پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی مزارِ قائد پر حاضری دی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ مختلف ادوار میں کی جانے والی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنی بہادر فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے تنقید برائے تنقید کرتے ہیں، تاہم سیاست کو ریاست پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی بہتری کے لیے جاری کام چیلنجز کے باوجود مسلسل جاری ہیں، یہاں تک کہ عید کے ایام میں بھی ترقیاتی سرگرمیاں معطل نہیں کی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اور خصوصاً ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم حکومت ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے شہر میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ مقامات پر آگ کے واقعات لاپرواہی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث پیش آئے، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔
مجموعی طور پر یومِ پاکستان کی یہ تقاریب قومی یکجہتی، قربانیوں کی یاد اور مستقبل کے لیے عزمِ نو کا پیغام دیتی نظر آئیں، جہاں سیاسی قیادت نے ماضی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے آئندہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
