نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترس نے پیر کے روز مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی جائیداد پر اسرائیلی قبضہ پسندانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
گوترس کے ترجمان اسٹیفان ڈوجریک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ “سیکریٹری جنرل حالیہ دنوں میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی جائیداد پر اسرائیلی قبضہ پسندانہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ حملے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں اور شدت اختیار کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں اموات، زخمی ہونے والے افراد اور جائیداد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بعض اوقات ان حملوں کی وجہ سے پورے علاقوں کے لوگ بے گھر بھی ہو گئے ہیں۔
ڈوجریک نے کہا کہ سیکریٹری جنرل یہ واضح کرتے ہیں کہ اسرائیلی بستیوں اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ بین الاقوامی قانون بشمول متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فوری کشیدگی میں کمی لائے اور شہریوں اور ان کی جائیداد پر حملوں کو روکے۔
ترجمان نے یاد دہانی کرائی کہ اسرائیل، بطور مقبوضہ طاقت، فلسطینی عوام کی حفاظت کا ذمہ دار ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کرنا لازم ہے۔
رپورٹ کے مطابق 8 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کے غزہ پر حملے کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور قابضین کے حملوں میں 1,133 فلسطینی شہید، تقریباً 11,700 زخمی اور 22,000 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔
محکمہ فلسطینی کے مطابق صرف فروری میں غیر قانونی آبادکاروں نے مغربی کنارے میں 511 حملے کیے، جن میں سات فلسطینی ہلاک ہوئے۔
واضح رہے کہ جولائی 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کی تمام بستیوں کے خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔
